24 جولائی، 2026، 12:52 PM

شنگھائی تعاون تنظیم بین الاقوامی قانون کے دفاع میں مؤثر کردار ادا کرے، عراقچی

شنگھائی تعاون تنظیم بین الاقوامی قانون کے دفاع میں مؤثر کردار ادا کرے، عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم پر زور دیا کہ وہ یکطرفہ اقدامات، غیرقانونی پابندیوں اور فوجی جارحیت کے خلاف فعال کردار ادا کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور رکن ممالک کی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، قومی خودمختاری اور کثیرالجہتی نظام کے دفاع میں زیادہ مؤثر اور فعال کردار ادا کرے۔

تفصیلات کے مطابق کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ دنیا ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم کو بے لگام یکطرفہ اقدامات کے مقابلے میں رکن ممالک کی خودمختاری اور مساوات کے تحفظ کی مضبوط آواز بننا چاہیے۔

انہوں نے غیرقانونی پابندیوں، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے استعمال کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے تنظیم سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ مہینوں میں ایران امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت کا نشانہ بنا۔ ان کے مطابق جون 2025 کے حملوں کے بعد فروری سے اپریل 2026 تک ایران پر دوبارہ حملے کیے گئے، جس سے نہ صرف ایران بلکہ پورے بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ کو چیلنج کیا گیا۔ 28 فروری 2026 کو ایران نے اپنی تاریخ کا ایک انتہائی المناک دن دیکھا، جب رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپنے دفتر میں موجود تھے اور اہل خانہ سمیت شہید ہوگئے۔

عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیاں صرف ایک ملک کی سلامتی کے خلاف نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف تھیں۔ اگر طاقت کے استعمال پر پابندی کا اصول کمزور پڑ گیا تو دنیا کا کوئی بھی ملک اس کے نتائج سے محفوظ نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے جائز حق کو استعمال کیا اور اپنی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا دفاع کیا، تاہم ایران کبھی جنگ کا آغاز کرنے والا ملک نہیں رہا اور نہ ہی ہوگا۔ ایران کی پالیسی ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری، حسنِ ہمسائیگی اور علاقائی تعاون پر مبنی رہی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نقل و حمل کے نظام، پینے کے پانی کی تنصیبات، ماہی گیری کی کشتیوں، تجارتی جہازوں، موسمیاتی مراکز اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جو بین الاقوامی قانون اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کی دوبارہ مداخلت اور بحری ناکہ بندی نے عالمی تجارتی جہاز رانی کو متاثر کیا اور ثابت کر دیا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کا امن بیرونی طاقتوں کی موجودگی سے نہیں بلکہ خطے کے ممالک کے باہمی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری سے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

عراقچی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں تعاون یا معاونت کرنے والے بھی نتائج کے ذمہ دار ہوں گے اور ایران بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں، اس ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور غزہ میں جاری انسانی بحران کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے قتل عام، محاصرہ، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور جبری نقل مکانی کی کوششیں عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے غزہ میں فوری جنگ بندی، محاصرہ ختم کرنے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی عوام کے جائز حقوق بحال نہیں کیے جاتے۔

News ID 1940427

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha